HomePoetryاب تیر تو نکل بھی چکا ہے کمان سے ۔۔۔


اب تیر تو نکل بھی چکا ہے کمان سے ۔۔۔

اب تیر تو نکل بھی چکا ہے کمان سے 
محروم ہو چکے ہیں پرندے اڑان سے 

کیا کیا میں سوچتی ہوں مگر ان کے سامنے
اک لفظ بھی نکلتا نہیں ہے زبان سے 

حیرت سے دیکھتے ہی رہے مجھ کو سارے لوگ
خوشیاں خرید لائی  ہوں غم کی دکان سے

اب  اس جہاں میں مجھ کو نہیں رہنا ہے مو  لا 
دل بھر گیا  ہے  میرا    ترے اس جہان سے

آدھا تمھارا نام ادھر، آدھا اُدھر  ہے
کاٹو گے دل ہمارا اگر درمیان سے

کس کے گمان میں تھا کہ عططو مریض دل
کل مار دے گا اپنی مسیحا کو جان سے

شاعرہ عططو

RELATED ARTICLES
- Advertisment -