HomePoetryاسیری کی اذیت خون کے آنسو  رلاتی تھی ۔۔۔


اسیری کی اذیت خون کے آنسو  رلاتی تھی ۔۔۔

غنیمت ہے ملی تھی
 آج کے دن 
ہم کو آزادی کی 
راعنائی
غلامی کے اندھیرے سے
 ملا تھا ہم کو 
چھٹکارا
 کوئی بھی اپنی مرضی سے 
نہ جیتا تھا نہ 
مرتا تھا
اسیری کی اذیت 
خون کے آنسو
 رلاتی تھی 
کہاں محفوظ تھا کوئی
 دلوں کی
 عزتیں پامال
 ہوتی تھیں
 پھر اک مردِ  مجاہد نے
 بدل کے 
رکھ دیا منظر 
ہمیں دی لے کے آزادی
 سبھی اہلِ وطن کو
 یوم  آزادی 
مبارک ہو

   اورنگ زیب عدن۔۔۔  بورے والا

RELATED ARTICLES
- Advertisment -