HomePoetryاس سمندر میں ہی رکنے والے ہیں۔۔۔(باپ بیٹے کی گفتگو)


اس سمندر میں ہی رکنے والے ہیں۔۔۔(باپ بیٹے کی گفتگو)

اس سمندر میں ہی رکنے والے ہیں
بیٹا ہم دونوں ہی مرنے والے ہیں
تم کو آج میں بچا نہ پاؤں گا
لوگ ہمارا ماتم کرنے والے ہیں
تیری ماں کو کیسے منہ دکھاؤں گا
آج تو ہم نہ گھر کو لوٹنے والے ہیں
اپنے خدا کے پاس ہمیں اب جانا ہے
وہی خدا جو بخشش کرنے والے ہیں
بولا بیٹا بابا میری غلطی ہے
میری وجہ سے آپ بھی مرنے والے ہیں
آپ نے وہ سب کیا ہے میری خاطر جو
جو نہ کسی کے باپ بھی کرنے والے ہیں
جانتا ہوں میں آپ کو بہت اچھی طرح
میری خاطر سب سے لڑنے والے ہیں
میرا ہاتھ پکڑ لو بابا اچھی طرح
اب دونوں ہم واپس مڑنے والے ہیں
موت کسے کہتے ہیں جان یہ جائیں گے
ہم دونوں اک ساتھ ہی مرنے والے ہیں

کلام : ثمینہ رحمت منال

RELATED ARTICLES
- Advertisment -