HomePoetryاپنی تو ہر آہ اک طوفان ہے۔۔۔


اپنی تو ہر آہ اک طوفان ہے۔۔۔

بے خبر کیوں آہ سے انجان ہے
“اپنی تو ہر آہ اک طوفان ہے”

خونِ ناحق کی یہی ہے بازگشت
ناخلف باقی ابھی تاوان ہے

ہے بڑا مسموم آنے والا کل
قلبِ مضطر میں عجب خلجان ہے

ٹھوکریں کھاکر بھی جو سنبھلا نہیں
دوستو! انسان وہ نادان ہے

خوشنما پھولوں کا ہے مسکن مگر
بوئے گل سے خالی یہ گلدان ہے

مصلحت نے روک رکھّے ہیں قدم
میرے دل میں بھی چھپا طوفان ہے

پی گیا ظلمت کی دھوپیں چھاؤں بھی
صبر آسا یہ مرا ایمان ہے

خواہشوں کی ہوگئی تکمیل اب
کون سا باقی ترا ارمان ہے

کج کلاہی شوخ ادا اور بانکپن
آن ہے اپنی یہی تو شان ہے

بے سرے ہیں زندگی کے روز و شب
سوز ہے سر اور نہ کوئی تان ہے

شہرتوں سے دور ہے تو ہاں مگر
قلمی بڑ کیفی تری پہچان ہے

کلام :انیس کیفی (انڈیا )

RELATED ARTICLES
- Advertisment -