HomePoetryاک کیفِ سرمدی رہا میری نماز میں۔۔۔


اک کیفِ سرمدی رہا میری نماز میں۔۔۔

گزری تمام عمر مری سوز و ساز میں
اک کیفِ سرمدی رہا میری نماز میں

یہ تیرا دل ہے جو کہ دلِ بے نیاز ہے  
یہ میرا دل ہے  جو کہ ہے عجز و نیاز میں 

آتش کدے سے کم نہیں، وہ آہِ سوز ناک 
سوزِ درُوں جو پیدا ہو قلبِ گداز میں 

جو بات دو دلوں میں ہو، کہتے ہیں اُس کو راز
عاشق کی جاں بھی جاتی ہے افشاۓ راز میں 

ڈرتا ہوں اُس جبیں پہ نہ آۓ کبھی شکن 
کیسی شکن یہ آئی ہے زُلفِ دراز میں؟ 

اتنا بھی زندگی پہ بھروسا کرو نہ تم 
سانسیں تو ٹوٹ جاتی ہیں اِس حرص و آز میں 

روکوں اِسے تو کس طرح روکوں میں جعفری
دل لے گیا ہے پھر مجھے اُس بزمِ ناز میں 
کلام : مقصود جعفری (اسلام آباد)

RELATED ARTICLES
- Advertisment -