HomePoetryبھوک سے روتی ہوئی بچی ...جہاں سیلاب آیا ہے وہاں امداد پہنچی ہے؟


بھوک سے روتی ہوئی بچی …جہاں سیلاب آیا ہے وہاں امداد پہنچی ہے؟

جہاں سیلاب آیا ہے
وہاں امداد پہنچی ہے؟

تباہی اور بربادی
یہاں ہر سمت پھیلی ہے
جہاں کل گھر تھے خوشیاں تھیں
وہاں ہر آنکھ روتی ہے
کسی ٹوٹے ہوئے گھر کے صحن میں
بھوک سے روتی ہوئی بچی 
یہ ماں بابا سے کہتی ہے
کہ بابا تم تو کہتے تھے
 کہ کل امداد آئے گی 
تمہیں روٹی بھی سالن بھی ملے گا ؟
کیا ہوا بابا؟؟؟؟
کہو بابا 
مجھے بتلاؤ ناں بابا
کہاں روٹی ہے سالن ہے؟
میں بھوکی پھر سے سوجاؤں؟ 
تبھی سوچوں میں ڈوبے باپ کی آنکھوں سے دو قطرے
پھسل کر ہاتھ پر ننھی کے جو ٹپکے
وہ رونا بھول بیٹھی اور پھر کھٹیا پہ جا سوئی
سویرا جب ہوا بابا نے ننھی کو پکارا پیار سے
اٹھو مری ننھی
مگر ننھی جو بھوکی چار دن کی روکے سوئی تھی نہیں اٹھی
وہ سارے غم،سبھی دکھ درد لے کر دور جا پہنچی۔۔۔۔۔۔
میں تم سے پوچھتی ہوں یہ
کہ جن کے نام پر امداد مانگی تھی
 پتا بھی ہے؟
تمھیں معلوم ہے کہ وہ
 بنا چھت اور روٹی کے نہ
جیتے ہیں نہ مرتے ہیں
مجھے یہ پوچھنا ہے کہ
جہاں سیلاب آیا ہے
وہاں امداد پہنچی ہے ؟؟؟؟

حمیرا قریشی

RELATED ARTICLES
- Advertisment -