HomePoetryجو حشر سے عظیم تھی وہ کربلا کی رات ۔۔۔


جو حشر سے عظیم تھی وہ کربلا کی رات ۔۔۔

ہاں ہاں وہ رات دہشت و بیم و رجا کی رات 

افسون جاں کنی و طلسم قضا کی رات 

لب تشنگان ذریت مصطفےٰؐکی رات 

جو حشر سے عظیم تھی وہ کربلا کی رات 
شبیرؓ نے حیات کا عنواں بنا دیا 

اس رات کو بھی مہر درخشاں بنا دیا 

تاریخ دے رہی ہے یہ آواز دم بدم 

دشت ثبات و عزم ہے دشت بلاؤ غم 

صبر مسیح و جرأت سقراط کی قسم 

اس راہ میں ہے صرف اک انسان کا قدم 
جس کی رگوں میں آتش بدر و حنین ہے 

جس سورما کا اسم گرامی حسینؓ ہے 

جو صاحب مزاج نبوت تھا وہ حسینؓ 

جو وارث ضمیر رسالت تھا وہ حسینؓ 

جو خلوتی شاہد قدرت تھا وہ حسینؓ 

جس کا وجود فخر مشیت تھا وہ حسینؓ 

سانچے میں ڈھالنے کے لئے کائنات کو 

جو تولتا تھا نوک مژہ پر حیات کو 

جو اک نشان تشنہ دہانی تھا وہ حسینؓ 

گیتی پر عرش کی جو نشانی تھا وہ حسینؓ 

جو خلد کا امیر جوانی تھا وہ حسینؓ 

جو اک سن جدید کا بانی تھا وہ حسینؓ 

جس کا لہو تلاطم پنہاں لئے ہوئے 

ہر بوند میں تھا نوح کا طوفاں لئے ہوئے 

جو کاروان عزم کا رہبر تھا وہ حسینؓ 

خود اپنے خون کا جو شناور تھا وہ حسینؓ 

اک دین تازہ کا جو پیمبر تھا وہ حسینؓ 

جو کربلا کا داور محشر تھا وہ حسینؓ 

جس کی نظر پہ شیوۂ حق کا مدار تھا 

جو روح انقلاب کا پرور دگار تھا 

ہاں اب بھی جو منارۂ عظمت ہے وہ حسینؓ 

جس کی نگاہ مرگ حکومت ہے وہ حسینؓ 

اب بھی جو محو درس بغاوت ہے وہ حسینؓ 

آدم کی جو دلیل شرافت ہے وہ حسینؓ 

واحد جو اک نمونہ ہے ذبح عظیم کا 

شاہد ہے جو ’’خدا ‘‘ کے مذاق سلیم کا 

عزت پہ جس نے سر کو فدا کر کے دم لیا 

صدق و منافقت کو جدا کر کے دم لیا 

حق کو ابد کا تاج عطا کر کے دم لیا 

جس نے یزیدیت کو فنا کر کے دم لیا 
فتنوں کو جس پہ ناز تھا وہ دل بجھا دیا 

جس نے چراغ دولت باطل بجھا دیا 

پانی سے تین روز ہوئے جس کے لب نہ تر 

تیغ و تبر کو سونپ دیا جس نے گھر کا گھر 

جو مرگیا ضمیر کی عزت کے نام پر 

ذلت کے آستاں پہ جھکایا مگر نہ سر 
لی جس نے سانس رشتۂ شاہی کو توڑ کر 

جس نے کلائی موت کی رکھ دی مروڑ کر 

جس کی جبیں پہ کج ہے خود اپنے لہو کا تاج 

جو مرگ و زندگی کا ہے اک طرفہ امتزاج 

سردے دیا مگر نہ دیا ظلم کو خراج 

جس کے لہو نے رکھ لی تمام انبیاء کی لاج 
سنتا نہ کوئی دہر میں صدق و صفا کی بات 

جس مرد سرفروش نے رکھ لی خدا کی بات 

ہر چند اہل جور نے چاہا یہ بارہا 

ہوجائے محو یاد شہیدان کربلا 

باقی رہے نہ نام زمیں پر حسینؑ کا 

لیکن کسی کا زور عزیز و نہ چل سکا 
عباس نامور کے لہو سے دھلا ہوا 

اب بھی حسینیت کا علم ہے کھلا ہوا 

یہ صبح انقلاب کی جو آج کل ہے ضو 

یہ جو مچل رہی ہے صبا پھٹ رہی ہے پو 

یہ جو چراغ ظلم کی تھرا رہی ہے لو 

درپردہ یہ حسین کے انفاس کی ہے رو 
حق کے چھڑے ہوئے ہیں جو یہ ساز دوستو 

یہ بھی اسی جری کی ہے آواز دوستو 

اے جانشین حیدر کرار ؓالمدد 

اے منچلوں کے قافلہ سالار المدد 

اے امر حق کی گرمئی بازار المدد 

اے جنس زندگی کے خریدار المدد 
دنیا تری نظیر شہادت لئے ہوئے 

اب تک کھڑی ہے شمع ہدایت لئے ہوئے 

کلام : جوش ملیح آبادی

نوٹ :”حسینؓ اور انقلاب “کے عنوان کے تحت  اس کلام کے67بند ہیں جن میں سے چند شائع کیے جا رہے ہیں 

RELATED ARTICLES
- Advertisment -