HomePoetryمرے وطن کی زمیں خوں سے لالہ زار بنی 


مرے وطن کی زمیں خوں سے لالہ زار بنی 

یہ کون لوگ تھے گلیوں میں سر بہ کف نکلے؟ 
سروں کو نوکِ سناں پر پرو دیا کس نے؟
جہاں میں چشمِ فلک نے یہ معجزہ دیکھا
زبانِ کشتۂ پہ جاری تھا وردِ
 آزادی
جلاۓ راہوں میں ہم نے کئی سروں کے چراغ
وہ قتلِ عام ہوا، جس سے عرش کانپ اُٹھا 
مرے وطن کی زمیں خوں سے لالہ زار بنی 
مگر یہ کیا کہ وطن میں بھی حبسِ زنداں ہے
لٹیرے  چاروں طرف دندناتے پھرتے ہیں 
کہیں بھی رسمِ مساوات ہے، نہ آزادی 
اگر حقوقِ بشر کی یہاں پہ بات کریں 
زباں کو تیغِ ستم سے یہ کاٹ دیتے ہیں 
جو خواب دیکھا تھا ہم نے ، یہ خواب وہ تو نہیں 
بجھی ہے شمع لہو سے اِسے فروزاں کرو 
شبِ ستم کی سیاہی میں اب چراغاں کرو
” نجاتِ دیدہ و دل“، کب ملی وڈیروں سے 
اُلجھ گئے ہیں اندھیرے یہاں سویروں سے 
مجھے تو ملتے نہیں جعفری یہاں رہبر 
جو اہلِ زر ہیں، یہاں رہزنوں میں ملتے ہیں
کہا تھا فیض نے جو کُچھ، مجھے وہ کہنا ہے
” تلاش جس کی ہمیں تھی یہ وہ سحر تو نہیں“

کلام :ڈاکٹر مقصود جعفری

RELATED ARTICLES
- Advertisment -