HomePoetryنہ مل سکا علی اصغر کو ڈوب مر پانی ۔۔۔


نہ مل سکا علی اصغر کو ڈوب مر پانی ۔۔۔

نبیؐ کے سر پہ جو رہتا تھا ابر کا سایا 

نظر کو آپؐ کا سایہ کہاں نظر آیا 

یہ معجزہ جو کرامت خدا نے فرمایا 

تو اس کو حجت پیغمبری بھی ٹھہرایا 
نگاہ خلق میں یہ ابر ہے، جو پانی ہے 

مری نظر میں نبوت کی یہ نشانی ہے 

کبھی جو رحمت باری کی شان دکھلائے 

زمیں پہ خلد سے نزہت کو کھینچ کر لائے 

جو کف اگل کے تلاطم بکف کبھی آئے 

عرق میں نوحؑ کا طوفان غرق ہوجائے 
خدا کا فضل ہے، قہر قدیر ہے پانی 

مطیع شاہ بشیر و نذیر ہے پانی 

جو پھینک دے کوئی اس کو بذلت و خواری 

وہ غم میں ہو، تو کرے پھر یہ اس کی غمخواری 

ہر ایک کافر و مسلم سے ہے رواداری 

نبیؐ و آل نبیؐ کا یہ فیض ہے جاری 
جناب فاطمہ زہراؓ کا مہر ہے پانی 

جو ان سے بغض رکھے اس کو زہر ہے پانی 

یہ تین روز کے پیاسے کھڑے ہیں ڈیہوڑی پر 

شباب پر ہے تمازت سموم کا ہے گزر 

بھبک رہی ہیں فضائیں، برس رہے ہیں شرر 

فرات سامنے ہے، پی رہا ہے سب لشکر 
قیامت اور یہ بچوں پہ ڈھارہے ہیں شقی 

دکھا کے پیاس میں پانی بہارہے ہیں شقی 

وہ مسلم جگر افگار کے یتیم پسر 

وہ بنت فاطمہؓ کے لال عون اور جعفر 

وہ جان شبر مسموم قاسم مضطر 

وہ آسرا شہ مظلوم کا علی اکبرؓ

 یہ سب پیمبراسلامؐ کے نواسے ہیں 

جو کلمہ گویوں کی بستی میں آج پیاسے ہیں 

سپاہ شام کو صورت دکھا کے بچے کی 

کہا کہ وہ بھی سنیں جو کہ ہوں شقی سے شقی 

یہ 6 مہینے کا گل رو، یہ جان ننھی سی 

ہمارے ساتھ ہے پامال جور تشنہ لبی 
یزیدیو! یہ گل تر بہت نراسا ہے 

قصور کچھ نہیں اور تین دن کا پیاسا ہے 

یہ سن کے سب نے جو دیکھا نظر اٹھا کے ادھر 

شقی بھی رو دیے دل تھام تھام کر اکثر 

کمان اتنے میں کڑکی، بپا ہوا محشر 

گلے پہ تیر لگا، مسکرا دیے اصغر

 حسینؓ بولے، میں اس ضبط کے فدا بیٹا 

تمہاری پیاس بجھی، حلق ترہوا بیٹا؟ 

قبا پہ خون جو ٹپکا ہوئی یہ حیرانی 

کہاں سے دھوئیں اسے پینے کو نہیں پانی 

اور اس میں سب سے زیادہ تھی یہ پریشانی 

کسے مدد کو پکارے بتولؐ کا جانی 
نہ لشکرے، نہ سپا ہے، نہ کثرت النا سے 

نہ قاسمے، نہ علی اکبرے، نہ عباسے 

کوئی رفیق نہ ہمدم نہ مونس و یاور 

فقط صغیر کا لاشہ تھا اور داغ جگر 

علیؓ کی تیغ سے بولے امام جن و بشر 

بس اب سنبھل کہ بناتے ہیں تربت اصغر

 یہ کہہ کے بار بلائے کثیر کھینچ لیا 

پسر کے حلق سے صابر نے تیر کھینچ لیا 

غضب کی جاہے کہ یہ کلفتیں اٹھائے حسینؓ 

علیؓ کی تیغ سے خود اک لحد بنائے حسینؓ 

اتارے قبر میں بیٹے کو باپ، ہائے حسینؓ 

بجز رضا بقضا کچھ نہ لب پہ لائے حسینؓ 

 نہ تھا چھڑکنے کو پانی پسر کی تربت پر 

چڑھائے آنسوؤں کے پھول ننھی تربت پر 

خیال آب جو تھا یاد آگئے بھائی 

نگاہ یاس ترائی سے جاکے ٹکرائی 

زمیں لرز گئی غازی کی لاش تھرائی 

تڑپ کے غیرت انسانیت یہ چلائی 
ارے فرات کے کم ظرف و بد گہر پانی 

نہ مل سکا علی اصغر کو ڈوب مر پانی 

کلام : نسیم امروہوی

نوٹ :”پانی ” کے عنوان کے تحت  اس کلام کے 78بند ہیں ، جن میں سے صرف چند شائع کیے گئے ہیں 

RELATED ARTICLES
- Advertisment -