HomePoetryوہ آنکھ بینا ہے  لیکن ابھی بیدار نہیں۔۔۔ جو سانحۂ کربلا سے...


وہ آنکھ بینا ہے،  لیکن ابھی بیدار نہیں۔۔۔ جو سانحۂ کربلا سے اشکبار نہیں

غمِ حسینؓ سے دل جس کا بے قرار نہیں
خدا کا دین ابھی اس پہ آشکار نہیں

وہ آنکھ بینا ہے،  لیکن ابھی بیدار نہیں
جو سانحۂ کربلا سے اشکبار نہیں

وہ کربلا سے ہے واقف ، نہ آشنائے حسینؓ
یزیدِ  وقت سے جو برسر  پیکار نہیں

نہیں سینے میں اگر سوز فکر و عملِ حسینؓ
ایماں کی دولت  کہن کا راز دار نہیں

نزول فصلِ بہار و خزاں بھی رشکِ  چمن 
نمود  رنگ و بو ،  پیمانۂ گلزار نہیں

نہیں آگاہ وہ جنت کے راستوں سے ابھی 
آباد قلب میں ، بہشت کا سردار  نہیں

قبولیت کی سند سے ہے بیگانہ یہ جہاں
نبیؐ کی آل ، اگر  مرکزِ  کردار نہیں 

کلام : کامران اعظم سوہدروی

RELATED ARTICLES
- Advertisment -