HomePoetryکوئی تفریق نہ مطلب نہ عداوت نہ حسد ۔۔۔فیض پہنچاتے رہو سب...


کوئی تفریق نہ مطلب نہ عداوت نہ حسد ۔۔۔فیض پہنچاتے رہو سب کو شجر کی صورت

دیکھ لینے دو ہمیں خواب میں گھر کی صورت
زندگی ہم نے گزاری ہے سفر کی صورت

کچھ بتائے کوئی کس طرح نہ دیکھوں اُس کو
میری آنکھوں میں وہ رہتا ہے نظر کی صورت

دل میں وہ زلزلہ آیا دمِ رخصت کہ نہ پوچھ
قصرِ تن ہو گیا یک لخت کھنڈر کی صورت

ایک ماں باپ سے پیدا ہوئے سارے انسان
مختلف پھر بھی ہے کیوں سارے بشر کی صورت

نوحؑ کے دور کا سیلاب سمجھ میں آجائے
ابر برسے جو کبھی دیدۂ تر کی صورت

کوئی تفریق نہ مطلب نہ عداوت نہ حسد
فیض پہنچاتے رہو سب کو شجر کی صورت

چشمِ آگاہ دکھاتی ہے مناظر کیا کیا
کیوں نہ افسردہ ہو اربابِ نظر کی صورت

ایک بے چینی سی رہتی ہے ہمیشہ راغبؔ
جانے کیا چیز ہے سینے میں شرر کی صورت

کلام : افتخار راغبؔ(دوحہ، قطر)

RELATED ARTICLES
- Advertisment -