HomePoetryہمارے ہاتھ تو آغاز ہی سے خالی تھے۔۔۔


ہمارے ہاتھ تو آغاز ہی سے خالی تھے۔۔۔

نہ تشنہ لب تھے نہ تشنہ لبی سے خالی تھے
بھرے ہوئے تھے کسی سے کسی سے خالی تھے

تو کیا ان آنکھوں میں کاجل بکھرتا جاتا تھا؟
تو کیا وہ ہونٹ گلابی ہنسی سے خالی تھے؟

ہماری راتیں مہکتی تھیں تیری باتوں سے
ہمارے دن تری موجودگی سے خالی تھے

ترے اجالے کے ہالے سے انخلا کے سبب
خلا میں رہتے تھےاور روشنی سے خالی تھے

ابھی تو باندھ رہا تھا وہ اپنا رخت سفر
خیال و خواب کے رستے ابھی سے خالی تھے

قمار خانۂ ہستی میں ہارتے بھی تو کیا
ہمارے ہاتھ تو آغاز ہی سے خالی تھے

وہ بے نشاط رتیں تھیں کہ جھیلنے والے
خوشی سے خالی تھے افسردگی سے خالی تھے

کسی کو میر کی مسند پہ لا بٹھایا گیا
کسی کے لفظ مگر شاعری سے خالی تھے 

عجیب چہرے تھے کتبے دکھائی دیتے تھے
مزار جیسے بدن زندگی سے خالی تھے۔۔۔۔۔۔

کلام :عدنان محسن

RELATED ARTICLES
- Advertisment -